پاکستان میں تعلیم کا کاروبار

ہر روز کی تھوڑی تھوڑی واقفیت کے مجموعے کا نام علم ہے اور طفولیت علم و ہنر کے لئے موزوں ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم و تربیت کے لئے ہر مسعاشرے میں بچوں کی ابتدائی درس گاہ ’’اسکول ‘‘ قرار د ی گئی ہے جہاں تعلیم کو مختلف درجوں میں ت تقسیم کر کے بچوں کو زنہ بہ زینہ اعلیٰ تعلیم کے لئے تیار کیا جاتا ہے ، اسکول کی یہی بنیادی تعلیم ان کی اساس بناتی ہے ۔
دینے کے اس عمل کو صنعت اور کاروبار کا وسیلہ بنالیا جائے تو سوچئے کہ پھریہ معتبر عمل کس طرح کے شعور ی معاشرے کو جنم دینے کا باعث بنے گا ؟
ہمارے یہاں چون کہ ص

This slideshow requires JavaScript.

رف اسکولوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ۔ معیار پر کسی کی توجہ نہیں ہے ۔اضافے بھی معاشرے کو شعور کی پہلی سطحو ں سے بلند کرنے کے بجائے نشیب کی طرف مائل کررہے ہیں ۔
پہلے تین سے چار علاقوں میں محض ایک اسکول ہوا کرتا تھا ۔ یہ سرکاری تعلیم کا زمانہ تھا ۔ اب تو یہ عمل کاروبار کی شکل اختیار کرچکا ہے ۔جس شخص کے پاس کرنے کو کوئی اور نوکری نہیں وہ اسکول کھول کربیٹھ گیا ہے ۔
معاشرے میں موجود دولت کی تقسیم کے لحاظ سے ہر مرتبے اورہر طبقے کے لئے مختلف طرز تعمیر مختلف سر گرمیوں ، عملی کام اور مختلف فیسوں کے حامل شہر میں موجود اسکول کا جائزہ لیاجائے تو معیاری نام کی تعداد آٹے میں نمک کی حیثیت رکھتی ہے۔
اگر ہم متوسط یا مزدور طبقے کے علاقوں کاجائزہ لیں تو وہاں موجود گلی محلں کے اسکولوں کا طرز تعمیر کسی خاص طرز تعمیر یا کسی خاص اہمیت کا حامل نہیں ہوتا ۔ یہ اسکول عموماً نرسری سے میٹرک کی سطح تک کے ہوتے ہیں۔ ان اسکولوں میں دی جانے والی تعلیم کا واحد مقصد محض پیسہ کمانا اور طلباء کے دس بارہ سال کا گزر کرنا ہوتا ہے۔ یہاں موجود اساتذہ یا تو اعلیٰ تعلیم حاصل کرتے ایسے نوجوان طلباء ہوتے ہیں جو اپنے جیب خرچ کا سامانا مہیا کرنے یہاں آتے ہیں یا پھر عموماً وہ فارغ التحصیل لڑکیاں ہوتی ہیں جو محض وقت گزارنا چاہتی ہیں یا ان کی تعلیمی قابلیت انہیں کسی بہتر جگہ نوکری دلانے کی اہل نہیں ہوتی۔ یہ صورتحال بچوں کے لئے ذہنی پریشانی کی باعث ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کا بچہ پانچویں‘ چھٹی جماعت میں آضانے کے باجود بھی نہ تو روزمرہ بول چال کی زبان ہی بڑھنا جانتاہے اور نہ ہی ٹھیک طرح سے لکھنا۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے نظام تعلیم کو ’’کلرک پیدا کرنے والے نظام‘‘ کا الزام دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف اگر پوش علاقوں میں قائم ہوتے نت نئے تعلیمی اداروں پر نگاہ ڈالی جائے تو وہاں بھی کم و بیش ایسا ہی طرز تعلیم ہے۔ فرق ہے تو صرف اتنا کہ وہاں استاد ہونے کے لئے آپ کا خوب صورت نظر آنا اور انگریزی میں ماہر ہونا ضروری ہے۔ اور اب تو ان علاقوں میں امیر والدین کی ’’مصروفیات‘‘ کے پیش نظر نرسری سے پہلے بھی دوکلاسز ’’پری نرسری اور ریسیپشن‘‘ کا آغاز کر دیا گیا ہے جہاں بچوں کو دو تین گھنٹے مختلف سرگرمیوں میں الجھا کر ڈھیروں فیس وصول کی جاتی ہے۔ اس طرح پھر یہ بچہ ایڈوانس نرسری اور پھر Garten Kinder سے گزرنے کے بعد پہلی جماعت تک کا سفر طے کرتا ہے اور طویل چودہ سالہ سفر کے بعد جب وہ اے لیول کر کے نکلتا ہے تو عموماً اسے بھی کوئی اچھا سرکاری ادارہ اعلیٰ تعلیم کے لئے جگہ نہیں دیتا اور وہ اپنی اعلیٰ تعلیم کا سفر بھی نجی اداروں میں لاکھوں روپے فیس ادا کر کے پورا کرتا ہے کیونکہ محض انگریزی بول لینا تو طالب علم کی صلاحیتوں کا پیمانہ نہیں۔ اب ذرا اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ اسکولوں کی یہ بڑھتی ہوئی تعداد کس چیز میں اضافہ ہے؟ معیار میں یا مقدار میں؟
تعلیمی ڈھانچے میں جدید ترامیم اور نظام تعلیم سے متعلق روشن خیال بیانات دینے والے ہمارے وزراء نے کبھی ’’اس‘‘ طرز تعلیم اور اس کے مقاصدو اثرات پر غور کیا ہے کہ زرخیز زمین پر توجہ نہ دینے سے جنگل اگتا ہے ‘جھاڑیوں کی تعداد بڑھتی ہے اور نتیجتاً کانٹے جا بجا پھیل جاتے ہیں۔ پھل نہیں اگتے ‘ خوشبو نہیں پھیلتی۔ پھلوں کو حاصل کرنے کے لئے اس زمین میں توجہ کے بیج بونا پڑتے ہیں۔ اسے خلوص نیت سے سینچنا پڑتا ہے۔ گرم‘ سرد موسموں سے بچانا پڑتا ہے تب کہیں جا کر سایہ دیتے ہیں اور پھل بھی۔ ننھی کونپلیں تناور درخت بننے تک ۔
سلمان زبیری

One thought on “پاکستان میں تعلیم کا کاروبار

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s