پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو انتہا پسند وں سے کوئی خطرہ نہیں ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہاجوہری ہتھیارامن کی ضمانت ہیں،مجھے یقین ہے کہ آئندہ کبھی پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ نہیں ہوگی۔ پاکستان کے جوہری اثاثوں کو نہ ماضی میں نہ اب اور نہ مستقبل میں کوئی خطرہ ہوگا۔ سیکورٹی اجزاء کا کسی کے پاس چلے جانا اور بم کو حاصل کرنا ناممکن ہے، اے کیو خان نیٹ ورک نام کی کوئی چیز ہی نہیں،میری پیٹھ پر ان لوگوں نے خنجر گھونپا جنہوں نے میرے کام سے فائدہ اٹھایا۔جرمن جریدے SPIEGEL سے انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو انتہا پسند وں سے کوئی خطرہ نہیں۔ یہ پروپیگنڈا مغرب کا پھیلایا ہوا ہے۔ پاکستان کے جوہری اثاثوں کو نہ ماضی میں نہ اب اور نہ مستقبل میں کوئی خطرہ ہوگا۔پاک فوج کے تحت 1980 سے ان اثاثوں کی حفاظت کا ایک مکمل اور مربوط نظام ہے۔ایٹمی اثاثوں کی سیکورٹی نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے ہاتھ میں ہے جہاں ایک نظام کے تحت فیصلہ سازی ہوتی اور فیصلے سے متعلقہ افراد خصوصی سیکورٹی کوڈ رکھتے ہیں۔تمام سیکورٹی اجزاء کا کسی کے پاس چلے جانا اور بم کو حاصل کرنا ناممکن ہے حتی کہ کو ئی انتہا پسند بھی گھس آئے تب بھی ناممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ میں کبھی بھی لیبیا ، ایران اور شمالی کوریا کوجوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے اور اس کے پھیلاوٴ ملوث نہیں رہا اور اے کیو خان نیٹ ورک نام کی کوئی چیز ہی نہیں۔ بین الاقوامی سپلائرز پیسے کے بدلے کسی کو بھی کچھ فروخت کر سکتے ہیں ان کو میری ضرورت نہیں۔لیبیا اور ایران کو سازوسامان فراہم کنندگان وہی لوگ ہیں جن سے خان ریسرچ لیبارٹریز سازوسامان خریدتی تھی۔ہمارا شمالی کوریا سے میزائلوں کی پیداوار کا ایک معاہدہ تھا۔جن کا پہلے سے پلوٹونیم کی پیداوار کا پروگرام موجود تھا اور انہوں نے اپنے ٹیسٹ کے طریقہ کار میں پلوٹونیم کو استعمال کرنا تھا۔ ہمارے پروگرام کی لاجسٹکس اور سیکورٹی فوج کے ہاتھ میں تھی اورہر چیزجو آتی یا باہر جاتی ہے اس کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے، فوج کے علم کے بغیر کسی بھی ملک کو میں کیسے کوئی چیز بھیج سکتا تھا۔ میں نے کبھی بھی ایٹمی ہتھیاروں کے لین دین یا ان سے کوئی مالی فائدہ نہیں اٹھایا۔ اگر ایسی کوئی بات ہوتی فوج کا اسپیشل پلان ڈویژن جس کے ساتھ میں نے کام کیا ۔کیا وہ آج مجھے ماہانہ خصوصی پنشن دیتا۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سات سال قبل میں نے پرویز مشرف کے دور میں ٹیلی ویژن پر عوام کے سامنے اس پورے ڈرامے کا الزام سیاسی قیادت کے دباوٴ پر اپنے سر لیا تھا۔ جنرل پرویز مشرف نے مجھ سے مکمل بحالی کے ساتھ ایک مکمل معافی کا وعدہ کیا تاہم چند دن کے بعد اس نے تنگ کرنا شروع کر دیا اور مشروط معافی چاہتا تھا۔ہمارے گھر کی تلاشی لی گئی ، فون اور انٹرنیٹ کنکشن منقطع کئے گئے۔اس سوال پر کہ آپ کو دھوکا دیا گیا،ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ دھوکا مناسب لفظ نہیں ہے میں سمجھتا ہوں کہ ان لوگوں نے میری پیٹھ پر خنجر گھونپا جنہوں نے میرے کام سے فائدہ اٹھایا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایٹمی تجربات بھارتی ٹیسٹ اور سیاسی جارحیت کے جواب میں کیے۔جوہری ہتھیاروں کی ڈیٹرنس کی حقیقت یہ ہے کہ دونوں فریق جانتے ہیں کہ دوسری طرف سے بھی ویسی ہی جوابی کارروائی ہوسکتی ہے۔ اگر دوسری عالمی جنگ میں جاپان کے پاس ایٹم بم ہوتا تو امریکا کبھی بھی ایٹم بم سے حملے کی ہمت نہ کرتا۔اس کے بعد1945سے یورپ میں کوئی جنگ نہیں ہوئی۔1971کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان بھی ایسی کوئی جنگ نہیں ہوئی کارگل صرف ایک معمولی جھڑپ تھی اور جوہری ہتھیاروں کے استعمال کا مسئلہ کبھی پیدا نہیں ہوا۔ لیکن ہم نادان نہیں ہیں دونوں فریق جانتے ہیں کہ کیا نتائج ہوسکتے ہیں۔جریدے کے اس سوال پر کہ اگریہ جوہری ہتھیار پاکستان کے پاس نہ ہوتے تو پاکستان دنیا کا خطرناک ترین ملک نہ سمجھا جاتا کیا آپ کو بم بنانے پر افسوس ہے اسپر ڈاکٹر قدیر نے کہا کہ مجھے اب بھی یقین ہے کہ میں نے پاکستان کی خدمت کی ہے۔ جوہری ہتھیارامن کی ضمانت ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آئندہ کبھی پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ نہیں ہوگی۔

One thought on “پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو انتہا پسند وں سے کوئی خطرہ نہیں ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان

  1. FIRST OF SALAM TO ALL PAKISTANIS ************************************************************ DR ABDUL QADEER KHAN SAAB HAMAREY KOME HERO HAI IS BAAT SE HUM KO KOE INKARA NAHIN HAI LAKIN APP SAB YEH BE JANTEY HAI K AMRICA IS WAQRT DUNYIA KI SUPER POWER HAI US KE ZABAN SE JO BE BAAT NIKLTEY HAI WO BAAT SUCH HO YA JHOOT SUCH HE HOTE HAI ES KI WAJA HAMARI LEADERSHIP HAI ES WAQAT HAMAREY COUNTRY PER HAMARE HAKOOMAT NAHIN AMRICA KI HAKOOMAT HAI AGER WO PAKISTAN MAI AA KAR AIBBOTABAD MAI KARWAY KAR SAKTA TO DR QADEER KHAN UTHA KE LEA JAANA UN KE LIE KOE BAADE BAAT NAHIN BAAT KARNEY KA MAQSED YE K DR SAAB KE MAMLA KO SYASE RANG DE DIA GIA HAI OR WO RANG DR SAAB PER CHAR GIA HAI AGER DR SAAB NEY PTV PER AA KER MAFE MANGE TU US KA MAQSAD UN KI BAYIZTEY KARWANA NAHIN THA BALKE UN SAVE KARNA THA AGER WO KHETY K HA YE SAB KUCH MAI NEY KIA HAI HUM DEKHTEY K UN KON BACHNEY ATA NAWAZ SHARIF YA BAYNAZIR BHHUTO JAB SHIP DOBNEY LAGATA HAI TO CHOEE SAB SE PEHLE CHLANGY LAGATE DETY HAI TO MERY HISSAB SEY TO PEREVIZ MUSARRAF NE TO APNEY KOME HERO KO SAVE KIA HAI NAHIN TO APP BHE KISI OR K MEHMAN BANE HOTEY DR SAAB YEA SYASE LOG TO SIRF APP KO GARAM KANEY MAI LAGEY RAHTEY HAI EN K JAAL SE BAHIR AYEA ALLAH APP K HAMI O NASER HO AAMIN*********

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s