بھٹو کی پھانسی کیخلاف رائے دی تو اس کے کیا نتائج ہونگے‘ چیف جسٹس کا حکومتی وکیل سے استفسار

 سپریم کورٹ آف پاکستان میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کی سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا ہے کہ اگر ذوالفقار علی بھٹو کے کیس کو ری اوپن کیا گیا تو اس سے دوسرا فریق متاثر ہو سکتا ہے ۔ اگر عدالت نے بھٹو پھانسی کے خلاف رائے دی تو اس کے کیا نتائج ہوں گے‘ ایسے مقدمات کا حوالہ بھی دیا جائے جس میں عدالت نے اپنی رائے تبدیل کی ہو جبکہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون کہتا ہے اصل اور شریک دونوں ملزمان کو

سزا ملے گی۔ تاریخ میں کئی افراد کو پارلیمنٹ نے بری قرار دیا۔ پارلیمنٹ مقدمے میں رائے دینے کے لئے قانون بنا سکتی ہے اور آئین میں تبدیلی کا اختیار بھی اسی کے پاس ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے کہ ماضی میں کسی جج نے غلط فیصلہ دیا تو اس پر ہم کیوں پچھتاوا کریں؟۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں 11 رکنی لارجر بینچ نے پیر کو صدر زرداری کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس کی سماعت کی ۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بھٹو کے خلاف جو کچھ ہوا ماورائے آئین تھا ۔ اگر عدالت نے بھٹو پھانسی کے خلاف رائے دی تو اس کے کیا نتائج ہوں گے ۔ بابر اعوان نے دوبارہ دلائل دیتے ہوئے مو¿قف اختیار کیا کہ آئین و قانون کے مطابق ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی نہیں دی جا سکتی تھی ۔ بابر اعوان نے سینٹ جان آرک کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں بے قصور قرار دیا گیا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جان آرک کو عدالت نے نہیں بلکہ پوپ نے بے قصور قرار دیا تھا۔ عدالت کو ایسے مقدمات کا حوالہ دیا جائے جن میں عدالت نے اپنی رائے تبدیلی کی ہو ۔آپ عدالت کو کسی نتیجہ کی جانب سے لے کر جانے کے لیے معاونت کریں ۔ آپ عدالت کی جانب سے دیے گئے فیصلوں کا حوالہ دیں اور پارلیمنٹ بھی اس حوالے سے قانون بناسکتی ہے جس پر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ صدر نے اپنے ریفرنس میں اسلامی شقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حضرت عمر فاروق نے ابو موسیٰ اشعری کے نام خط میں لکھا تھا کہ جب کوئی مقدمہ تمہارے سامنے ہو تو اس کا اچھی طرح جائزہ لو اور جس معاملے میں حق کا نفاذ نہ ہو سکے اس کے بارے میں باتیں نہ بنایا کرو ۔بابر اعوان نے کہا کہ عدالت اپنے فیصلے پر پچھتاوے کا اظہار کرے جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ کوئی شخص کسی دوسرے کی جگہ پچھتاوے کا اظہار نہیں کر سکتا ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بھٹو کے خلاف مقدمہ مجاز عدالت میں چلا جس کا فیصلہ آنے پر اپیل دائر کی گئی اور 7 ججوں نے اپیل سننے کے بعد فیصلہ دیا جس پر نظرثانی کی درخواست کو بھی 7 ججوں نے کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا ۔ بابر اعوان کا کہنا تھا کہ جسٹس نسیم حسن شاہ نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ غلط تھا ۔اس موقع پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ قرآن میں پچھتاوے کا نظریہ ذرا مختلف ہے ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ یہ ایک ایسا کیس ہے جس میں 2فریقین کے درمیان تنازع تھا اگر عدالتی فیصلہ کا دوبارہ جائزہ لیا جاتا ہے تو اس کے اثرات کیا ہوں گے ۔ ہم نے دوسرے فریق کو پارٹی نہیں بنایا جو کہتا ہے کہ اس کے والد کو قتل کیا گیا اور شکایت کنندہ کا مو¿قف بھی لیا جانا چاہیے ۔ بابر اعوان نے کہا کہ کسی شریک ملزم کو سزائے موت نہیں دی جا سکتی اور صدر نے واضح کیا ہے کہ حکومت کسی سے انتقام نہیں چاہتی۔ اس سے کوئی فریق متاثر نہیں ہو گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کیس کا جائزہ لینا ہو گا ۔ عدالت نے مزید سماعت آج تک ملتوی کر دی ۔

2 thoughts on “بھٹو کی پھانسی کیخلاف رائے دی تو اس کے کیا نتائج ہونگے‘ چیف جسٹس کا حکومتی وکیل سے استفسار

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s