امت ِمسلمہ ہوشیار باش!!!

دفاعی تجزیہ نگار جنرل (ر) حمیدگل صاحب نے کیا صحیح کہا ہی: امریکا اور ہمارے دشمنوں کا پروگرام ہے ”بہانہ طالبان، ٹھکانہ افغانستان اور نشانہ پاکستان“۔ یہی رائے تمام محب وطن پاکستانیوں کی ہے۔ ہم نے اس مضمون کو امت ِمسلمہ کا نام اس لیے دیا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں میں پوری امت کا خون شامل ہے۔ نہ جانے کس کس نے کس کس طرح اس کو پایہ¿ تکمیل تک پہنچانے میں مدد دی ہی، اس لیے اب اس کو سنبھالنا بھی امتِ مسلمہ کو ہے کیونکہ یہ اس کی امانت ہے۔ آپ کو معلوم ہے اگر پاکستان کے پاس ایٹمی قوت نہ ہوتی تو بھارت اب تک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مزید ٹکڑے کرچکا ہوتا۔ اب بھی وہ پاکستان میں اور خصوصاً بلوچستان میں امریکا کے ساتھ مل کر یہ کام کررہا ہے۔ بھارت نے افغانستان میں پاکستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ متعدد قونصل خانوں کے دفاتر کھولے ہوئے ہیں، ان کے ذریعے وہ ہمارے ملک کے خلاف جارحیت میں برابر کا شریک ہے۔ دنیا جانتی ہے بھارت، اسرائیل اور امریکا اس ملک اور اس کے ایٹمی اثاثوں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ بھارت 1971ءمیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کرچکا ہی، اس میں ہمارے منافق دوست امریکا نے بھی اپنا حصہ ادا کیا اور اس کا ساتواں بحری بیڑہ ہماری مدد کو نہ پہنچ سکا جب کہ ہم اس کے سینٹو، سیٹو کے معاہدوں میں شامل تھے اور ہماری مدد کرنا اُس کا فرض تھا۔ امریکا مدد کیا کرتا وہ تو پاکستان توڑنے میں شریک تھا۔ اُس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے اپنی کتاب میں اس کا ذکر کیا ہے کہ پاکستان کو توڑنے میں ہمارا بھی ہاتھ تھا۔ روس نے تو کھلم کھلا اعلان کیا تھا اور پشاور کے علاقے بڈھ بیر کو اُس وقت نشان زد کردیا تھا جب ہم نے اپنے منافق دوست امریکا کو وہاں سے روس کے خلاف U2 جاسوس طیارہ اڑانے کی اجازت دی تھی جو روس نے اپنی سرزمین پر گرا لیا تھا۔ اس نے 1971ءمیں اپنی ایٹمی گن بوٹس کے ذریعے ہماری ناکہ بندی کرکے ہندوستان کی مدد کی تھی جس کی وجہ سے بنگلہ دیش وجود میں آیا۔ خیر اس کا بدلہ امت ِمسلمہ نے افغان جہاد کے ذریعے روس کو توڑ کر اور دنیا کو آزاد کرواکے اور اپنی چھ اسلامی ریاستیں قازقستان، کرغیزستان، اُزبکستان، ترکمانستان، آذربائیجان، اور تاجکستان کوآزاد کرواکے روس سے لے لیا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہی: ”ڈریے رب قادر کولوں، جیڑا چڑیاں تو باز مر وان دا ہے“۔ کیا یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت نہیں ہے کہ وہ امریکا کو گھیر کر فاقہ مست افغانیوں کے ملک میں لے آیا تاکہ اس کی سنت پوری ہو کہ کمزور لوگوں سے دنیا کی سپر طاقت کو شکست دے (فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی…. یا بندہ¿ صحرائی یا مردِ کوہستانی)۔ پی این ایس مہران ایئربیس پر حملہ اور اس سے پہلے ہماری خودمختاری پر حملہ ایک ہی قسم کی کارروائیاں ہیں، کہ بالآخر ہمارے ایٹمی اثاثوں پر حملہ کرواکر کہا جائے گا کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہی، یہ اپنے ایٹمی اثاثے سنبھال نہیں سکتا۔ اور یہ موجودہ وار آن ٹیرر کا آخری ٹریلر ہوگا۔ اس طرح بھارت، اسرائیل، مغربی ممالک اور امریکا اسلامی ایٹمی بم سے نجات حاصل کریں گے۔ ہم بار بار اہلِ اقتدار پر واضح کرتے آرہے ہیں کہ ہوش کے ناخن لیں اور اپنے ہی لوگوں سے لڑائی بند کردیں، ان سے مذاکرات کریں۔ مگر ہماری اور ہم جیسے لاتعداد پاکستانیوں کی بات پر دھیان نہیں دیا جارہا ہے۔ ہر حملے کے بعد مزید لڑائی کرنے کا عزم ظاہر کرکے اپنے بیرونی آقاوں کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں۔ افغان طالبان کا ہی معاملہ لے لیں جن کے ملک کو تورا بورا بنانے کے لیے ہمارے ملک سے روزانہ ناٹو سپلائی جارہی ہی، کیا وہ افغانستان سے ہمیں پھولوں کے ہار بھیجیں گی؟ کیا ہم نے (نام نہاد) وار آن ٹیرر میں فرنٹ لائن اتحادی بن کر اپنے ملک کی بربادی کا سودا نہیں کیا؟ جنرل پرویزمشرف نے افغانیوں کے خلاف جو جرم کیا ہے اس کی باقاعدہ افغانیوں سے معافی مانگنا چاہیے اور ان کے خلاف لڑائی سے دست بردار ہونا چاہیے تاکہ ملک میں جاری گوریلا جنگ ختم ہو۔ امریکا کس طرح بتدریج آگے بڑھ رہا ہے۔21 مئی2011ءکے اخبارات میں خبر شائع ہوئی ہے کہ ناکام اسلامی ایٹمی ملک امریکا کے لیے خطرہ ہوگا۔ یہ امریکی ذہن کی عکاسی ہی، اور یہ بات کوئی عام آدمی نہیں کررہا ہے بلکہ یہ فرمان رمز فیلڈ سابق وزیر دفاع امریکا کا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوزکو دیے گئے انٹرویو سے مقامی اخبارات نے خبر شائع کی ہے کہ 26 مئی کو بھارت کے وزیر دفاع اے کے انتھونی نے فرمایا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ پر حملوں کے بعد پاکستانی جوہری اثاثوں کا تحفظ اب پوری عالمی برادری کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ ناٹو کے سربراہ اینڈرس فاگ راسموسن نے فرمایا ہے کہ پاکستان کے جوہری اثاثوں کی حفاظت کا معاملہ باعث ِتشویش ہے۔ یہ صرف 3 واقعات ہم نے لکھے ہیں ورنہ یہ بات دنیا میں بتدریج پھیلائی جارہی ہے تاکہ کام آسان ہوجائے۔ پہلے بھی ایسی خبریں شائع ہوتی رہی ہیں اور آئندہ بھی ایسی خبریں شائع ہوتی رہیں گی۔ امریکا اپنے پلان پر کام کررہا ہی، ہمیں اس پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہم بار بار کہہ رہے ہیں کہ یہود و نصاریٰ کو اسلامی ایٹم بم ہضم نہیں ہورہا، وہ ہمارے ملک کو افراتفری میں مبتلا کرکے کہیں گی: ”یہ ایک ناکام ریاست ہے“۔ وہ اس کے ایٹمی اثاثوں کو بین الاقوامی کنٹرول میں دے دینا چاہتے ہیں۔ اس منصوبے کے لیے کراچی کو جو پاکستان کو 70فیصد ریونیو دیتا ہے ایک عرصے سے ڈسٹرب کیا ہوا ہی، ذرا ذرا سی بات پر املاک کو نقصان پہنچانا اسی پلاننگ کا حصہ ہی، اور یہ کام امریکا کے مقامی ایجنٹ سرانجام دے رہے ہیں۔ کراچی میں دو قوم پرست جماعتیں نورا کشتی لڑرہی ہیں۔ اس کا ثبوت ریمنڈ ڈیوس سے تفتیش کے دوران اس کا اخباروں میں شائع شدہ بیان ہے کہ وہ کراچی میں دونوں قوم پرست جماعتوں کو فنڈ فراہم کرتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بے نظیر صاحبہ کی موت پر پاکستان کو چند دنوں میں اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا گیا تھا اور اب پی این ایس پر حملہ کرکے اربوں کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔ یہ سب کچھ کون کررہا ہی، آج تک اتنے بڑے نقصان کی تحقیق کیوں نہیں کروائی گئی؟موجودہ حکومت کو ایک معاہدے کے تحت این آر او کے ذریعے اقتدار میں لانا اور اس کے ذریعے اربوں ڈالر کی کرپشن کو قانونی حثیت دلانا امریکا بہادر کا کام ہے۔ اب پھر پرویزمشرف کی باقیات کو اپنی موجودہ پٹھو حکومت سے ملانا اس گریٹ گیم کا حصہ ہے۔ امریکا کی آشیرباد والی قوم پرست جماعتوں اور ڈکٹیٹر کی باقیات کو ملاکر پارلیمنٹ میں دو تہائی قوت حاصل کروانے کا پروگرام بنانا ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ حکومت امریکا کے کہنے

پر عمل کرتی ہی، اس نے اپنی پارلیمنٹ کی پہلی منظور شدہ قرارداد ردی کی ٹوکری میں ڈالی ہوئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکا سے خارجہ تعلقات پر نظرثانی کی جائے۔ ایبٹ آباد حملے کے بعد ان کیمرہ اجلاس کی قرارداد پر اب تک عمل نہیں کیا گیا۔ اس لیے محب وطن عناصر کو سر جوڑ کر فوراً بیٹھنا چاہیے اور اس حکومت کو ختم کرنے کی تدبیر کرنی چاہیے۔ موجودہ صدر کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں سے میں پریشان نہیں ہوتا۔ اور وزیراعظم صاحب کا کہنا ہے کہ ہم پارلیمنٹ میں فرضی شور مچاتے رہیں گی، ہمیں حکومت کرنے دیں۔ جمہوری، آئینی پُرامن طریقے سے جدوجہد کرکے عوام کی طاقت سے اس حکومت کو تبدیل کرنے کے علاوہ اور کوئی طریقہ نہیں، اس لیے اس بات پر تمام سیاسی و دینی جماعتوں کو کوئی نہ کوئی لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s