ملک کی سیاست اور گھٹن کا ماحول

ملک کی سیاست حادثوں اور تماشوں کی دنیا ہے جو کسی بھی اصول، قانون اور ضابطے کی گرفت میں نہیں، بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ملکی پارلیمنٹ، قانون اور حکمران ان حادثوں اور تماشوں کی مٹھی میں بند ہیں اور یہاں ایک ایسا جہاں آباد ہے جس میں ہرطرف گھٹن اور سیاسی تعفن ہے۔ چند ہفتوں سے پے درپے ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں جن کی صلیب پر قوم لٹکی ہوئی ہے۔ بحران میں گھری ہوئی اس قوم کے سامنے چار نہایت بنیادی سوال ہیں: (1)تیزی سے دگرگوں ہوتی ملکی معیشت کو کیسے سنبھالا جاسکتا ہی، اور (2) فوج کے امریکہ کے ساتھ تلخ ہوتے ہوئے تعلقات کے نتائج کیا ہوسکتے ہیں؟ آخری دو سوال حکومت اور ملک کی سیاسی قوتوں سے متعلق ہیں کہ اب سے کوئی تیرہ چودہ ماہ کے بعد آئینی لحاظ سے نئے عام انتخابات ہونے ہیں، تو کیا ان سے قبل پیپلزپارٹی، خصوصاً آصف علی زرداری مرکز سمیت چاروں صوبوں میں اپنی پسند کی نگران حکومتیں بنواسکیں گی؟ اور آخری سوال یہ کہ سیاسی جماعتیں کن نعروں اور ایشوز کی بنیاد پر عام انتخابات میں عوامی عدالت میں جائیں گی؟ ملکی معیشت کا حال تو یہ ہے کہ وفاقی بجٹ کا سارا دارومدار عالمی مالیاتی اداروں سے ملنے والی امداد پر ہے۔ اگر کشکول میں کچھ نہ ملا تو پھر ٹیکسوں کی بھرمار ہوگی۔ وزیر خزانہ نے ٹیکس دینے کے اہل لوگوں کے لیے ہی ٹیکس فری بجٹ بنایا ہے۔ یہ ایک ایسی حکومت کا بجٹ ہے جسے جلد ہی عام انتخابات کے ملاکھڑے میں اترنا ہے۔ انتخابات اس ماحول میں ہوں گے کہ ملکی فوج امریکہ کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے سوشل کنٹریکٹ کی جانب بڑھ رہی ہوگی۔ یہ سوشل کنٹریکٹ کیا ہوگا ابھی اس کے خدوخال واضح نہیں ہوئی، تاہم اس کا عکس لازماً ملکی سیاست پر اثرانداز ہوگا۔ سیاسی قوتوں سے یہی سب سے بڑا سوال ہے کہ کیا وہ پاک فوج اور امریکہ کے نئے تعلقات کے اونٹ کی سیدھی یا ٹیڑھی کسی کل سے واقف بھی ہیں؟ اور وہ سیاسی قوتیں جو پیپلزپارٹی کی پالیسیوں کے خلاف کھڑی ہیں اور رائے عامہ اپنے حق میں منظم کررہی ہیں، عام انتخابات سے قبل غیر جانب دار نگران حکومتوں کے قیام کے لیے ان کا ہوم ورک کیا ہی؟ آج سے ٹھیک آٹھ ماہ بعد ملک میں سینیٹ کے انتخابات ہیں۔ صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھی ہوئی سیاسی جماعتوں کی کوشش ہوگی کہ وہ سینیٹ میں عددی اکثریت حاصل کریں تاکہ اگلی حکومت کے لیے سینیٹ کا ایوان ان کے لیے چیلنج نہ بن سکے۔ سینیٹ کے انتخابات کے لیے ہونے والی جوڑتوڑ کی کوکھ سے ہی نئے سیاسی اتحاد جنم لیں گے۔ جہاں تک اس کے علاوہ ایشوز کا تعلق ہے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ آنے والے دنوں میں سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ تعلقات کا معاملہ ملک کے دیگر معاملات سے زیادہ اہم سیاسی ایشو بن سکتا ہی، اور اس معاملے میں سیاسی جماعتوں کی تقسیم بھی صاف دکھائی دے سکتی ہے۔ پیپلزپارٹی کی اشرافیہ، جس کی سیاسی پہچان اسٹیبلشمنٹ مخالف کے طور پر جانی جاتی ہی، خیال ہے کہ وہ پوری طرح کھل کر فوج کے ساتھ کھڑی ہوگی اور مسلم لیگ نواز اس کے برعکس اسٹبیلشمنٹ کی حمایت یا مخالفت پراسرار پردوں میں چھپائے بیٹھی ہے۔ پیپلزپارٹی کی طرح مسلم لیگ ق، متحدہ اور جے یو آئی ف بھی فوج کے اتحادی ہوں گی، جب کہ عمران خان کا مو¿قف بین بین ہے مگر فیصلہ کن لمحات میں وہ اپنا وزن فوج کی طرف ہی ڈالیں گے۔ بظاہر تو یہ منظر بڑا ہی خوش کن دکھائی دیتا ہے کہ سیاسی جماعتیں، چاہے وہ کسی کی بھی حامی ہیں، اپنے فیصلے خود کررہی ہیں، مگر حقائق اس کے برعکس ہیں۔ اب بھی ملٹری اسٹیبلشمنٹ تمام تر واقعات کے باوجود حاوی نظر آتی ہے۔ جوں جوں وقت آگے بڑھے گا اس کھیل کے سارے پہلو کھل کر سامنے آجائیں گے اور تمام سیاسی جماعتیں گھڑی کی سوئیوں کی طرح ایک ہی دائرے میں خود کو ملنے والے ایجنڈے کے مطابق ہی آگے بڑھتی ہوئی معلوم ہوں گی۔ سیاسی جماعتوں کے لیے ایجنڈا کون سیٹ کرتا ہی، ملک کی باسٹھ سالہ تاریخ میں یہ سلیمانی ٹوپی آج تک کسی کو نظر نہیں آئی۔ بانی¿ پاکستان کے فرمان کے مطابق بلاشبہ ہمارا ملک اسلامی فلاحی جمہوری ریاست ہے جہاں ہر شہری کو بلا امتیاز مذہب باعزت زندگی گزارنے کا آئینی حق حاصل ہی، مگر یہ حق اس ملک کی اشرافیہ کے علاوہ کسی کو نہیں ملا۔ بدعنوان سیاسی اشرافیہ، عدلیہ اور آئین توڑنے والی قوتیں ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتی چلی آرہی ہیں۔ آج بھی اس ملک کے ہر شعبے میں جسٹس منیر بھی زندہ ہے اور آئین توڑنے والے ایوب خان بھی۔ فلاحی اور اسلامی ریاست کا وجود کہیں نظر نہیں آرہا۔ بدعنوانیوں، لاپتا افراد کی عدم بازیابی، اور سر بازار لوٹ مار کے واقعات قومی زندگی کو دیمک کی طرح کھا رہے ہیں۔ سرکاری اداروں میں اربوں روپے کی کرپشن پر کوئی ایکشن نہ لیے جانے کے باعث یہ بیماری انتہائی گھٹیا حد تک پھیل چکی ہے جس کی ایک مثال یہ ہے کہ گزشتہ دنوں وزیر اطلاعات محترمہ فردوس عاشق اعوان صاحبہ نے اپنی وزارت کے ایک افسر کے ذمے یہ کام لگایا کہ ان کے انتخابی حلقے میں غریب لوگوں میں تقسیم کرنے لیے کپڑے کے ڈیڑھ سو جوڑوں کا بندوبست کیا جائے۔ سرکاری خزانے سے وزیر صاحبہ کے اس حکم کی تعمیل کی گئی ہے۔ وزراءکی گھٹیا سطح کی بدعنوانیوں کی یہ صرف ایک مثال ہے۔ ہر ایک وفاقی وزارت میں یہی کچھ ہورہا ہے۔ سرکاری افسر روزانہ ایسی بیسیوں فرمائشیں پوری کرنے پر مجبور کیے جاتے ہیں۔ نوازشریف کے دور میں پنجاب کے محکمہ اوقاف کی جانب سے ہر ماہ دو دو ہزار مالیت کے پچاس چیک ان کے گھر بھجوائے جاتے تھے۔ یہ چیک ان کے والد کسی سرکاری استحقاق کے بغیر غریبوں میں تقسیم کیا کرتے تھے۔ وزراءسمیت عدلیہ میں اسی طرح کی چھوٹی چھوٹی بدعنوانیوں کو روکنے کے لیے ہمارے ملک میں مضبوط نگرانی کا کوئی نظام نہیں ہے۔ قانون، قاعدے اور تمام ضابطے موجود ہیں مگر عمل درآمد نہیں ہوتا، یا پھر کرنے نہیں دیا جاتا۔ ان واقعات سے ہٹ کر ایک نہایت افسوس ناک طرزعمل کی حامل مگر ”دلچسپ“ بات یہ ہے کہ وزیراعظم گیلانی کی سیکورٹی کے لیے امریکہ سے منگوائی جانے والی چھ لاکھ سے زائد مالیت کی کتیا گرمی سے مرگئی ہے۔ اس کتیا کو سیکورٹی حکام وزیراعظم کے دورہ¿ ملتان کے موقع پر ساتھ لے گئے تھے مگر وہ ملتان کی گرمی برداشت نہیں کرسکی۔ اس واقعے کی تحقیقات ہورہی ہے کہ کون اس کا ذمہ دار ہی؟ حکومت کو اس بات کی کوئی پروا نہیں کہ سانحہ ایبٹ آباد کے نتیجے میں ملکی سلامتی اور خودمختاری کا قتل ہوا، غربت کے باعث ملک میں خودکشیاں ہورہی ہیں، ان کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنے ہیں مگر ابھی تک کام شروع نہیں کرسکے ہیں۔ ہر روز کوئی نہ کوئی نیا قانونی سقم سامنے آجاتا ہے۔ دوسری جانب یہ صورت حال ہے کہ کتیا کی ہلاکت کی تحقیقات ہورہی ہے اور آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کی تدابیر سوچی جارہی ہیں۔ کراچی میں ایک ہی روز پچاس لاشیں گری ہیں۔ ان پچاس لاشوں کے بعد ایم کیو ایم، اے این پی اور پیپلزپارٹی نے تمام اختلافات بھلا کر ایک بار پھر یک جہتی کا اظہار کیا ہے۔ گویا آئین اور قانون ایک طرف، اول ترجیح ذاتی مفادات کی ہے۔ چند ہفتے قبل سانحہ ایبٹ آباد سے متعلق پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ان کیمرہ بریفنگ ہوئی۔ اب اطلاع یہ ہے کہ اس اجلاس کی سی ڈی امریکیوں کے ہاتھ لگ گئی ہے اور اس واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہے کہ ایسا کس طرح ہوا؟ دوسرا واقعہ یہ ہوا ہے کہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں مدد دینے کے الزام میں ایک میجر سمیت پانچ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ اور اب ایک خبر سامنے آئی ہے کہ کالعدم تنظیم سے روابط کی بناءپر حاضر سروس بریگیڈیئر علی خان کو جنرلی کیانی کے حکم پر گرفتار کرلیا گیا ہے۔ یہ دونوں واقعات اپنی جگہ پر نہایت افسوس ناک ہیں، مگر حساس پہلو یہ ہے کہ اس حوالے سے خبر امریکی میڈیا ہی دے رہا ہے اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکیوں نے ہمارے ہر شعبہ¿ زندگی میں مکڑی کی طرح جال بُن رکھا ہے اور بدعنوان لوگوں کو تحفظ کے لیے اپنی چھتری فراہم کر رکھی ہے۔ شاید اسی لیے ایبٹ آباد کے واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلان کے باوجود کمیشن اپنا کام شروع نہیں کرسکا ہے۔ اس بارے میں حکومتی ذرائع بتاتے ہیں کہ ”ایبٹ آباد کمیشن کے موجودہ اراکین ہی اس انکوائری پر کام کریں گی، کمیشن کا سیکریٹریٹ قائم کردیا گیا ہے اور زیادہ سے زیادہ ایک ماہ کے اندر کام شروع ہوجائے گا۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال اگر ریٹائر ہوگئے تب بھی وہی اس کمیشن کے سربراہ رہیں گے“

۔ اس وضاحت میں بڑی سادگی ہے۔ کمیشن کے حوالے سے اصل بات اراکین کی نہیں بلکہ ٹرمز آف ریفرنس کی ہے جس کو سامنے رکھ کر کمیشن کام کرے گا۔ ایک جانب یہ منظرنامہ ہے اور دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے اور بجٹ پر بحث سمیٹی جاچکی ہے۔ ان سطور کی اشاعت تک بجٹ قومی اسمبلی سے پاس بھی ہوچکا ہوگا۔ اس بجٹ کی خاص بات یہ ہے کہ جس روز وزیر خزانہ نے بحث سمیٹتے ہوئے ایوان میں تقریر کی اُس وقت وزیراعظم کے ایک عزیز اور کابینہ کے سابق وزراءسمیت پیپلزپارٹی کے بائیس ارکان زرعی شعبے پر ٹیکسوںکے خلاف ایوان سے واک آوٹ کرگئے۔ بجٹ سیشن کے حوالے سے دوسری اہم بات یہ ہے کہ جب سے بجٹ اجلاس شروع ہوا ہے سوائے بجٹ تقریر کی، کسی دن بھی تین سو بیالیس ارکان پر مشتمل ایوان کی حاضری ستّر اسّی ارکان سے اوپر نہیں گئی۔ قومی اسمبلی کے ارکان، وزیراعظم کے اسٹاف اور وزارت خزانہ کے کیمپ آفس کے ارکان کے لیے وزارتِ خزانہ نے ایک نجی کیٹرنگ کمپنی سے ایک کروڑ بیس لاکھ روپے کے کھانے کا ٹھیکہ کیا ہی، یوں ہر رکن کے لیے روزانہ تین ہزار روپے کا کھانا منگوایا گیا۔ یہ اس ملک کے ان ارکان پارلیمنٹ کی خدمت ہے جنہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ سانحہ ایبٹ آباد کی تحقیقات کے لیے کمیشن کیوں کام نہیں کررہا ہی، سڑکوں پر عام شہری سیکورٹی اداروں کے ہاتھوں بے گناہ قتل ہورہے ہیں اور حکومت کو بیرونی قرضوں پر 790 ارب روپے سے زائد سود ادا کرنا پڑتا ہے اور نئے مالی سال میں مزید 287ارب روپے کے غیر ملکی قرضے حاصل کرنے کی تجاویز بھی بجٹ میں شامل کی گئی ہیں۔ جمہوریت کے نام پر عوام کی خواہشات سے کھیلنے والے سیاسی رہنماوں کا یہی طرزعمل عوام کو بد اعتمادی کا ماحول فراہم کررہاہے۔ سینیٹ میں ابھی تک قائد حزب اختلاف کی تقرری کا معاملہ وجہ تنازع بنا ہوا ہے کہ چیئرمین سینیٹ نے صدر آصف علی زرداری کی خواہش پر اسحاق ڈار کے حق میں پچیس ارکانِ سینیٹ کو نظرانداز کرکے جے یو آئی کے مولانا غفور حیدری کو قائد حزب اختلاف مقرر کردیا ہے۔ ایک نجی محفل میں چیئرمین سینیٹ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ”میرے پاس دو ہی راستے تھی، یا تو استعفیٰ دے دیتا یا پھر مولانا حیدری کے حق میں فیصلہ کرتا، لہٰذا میں نے ان میں سے ایک راستے کا انتخاب کرلیا“۔ اس معاملے میں چیئرمین سینیٹ کا کردار انتہائی مشکوک ہے۔ انہوں نے بڑے درجے کے ایک اشارے پر فاٹا کے ایک رکن کو توڑ کر مولانا حیدری کے حوالے کیا۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ جان جمالی نے اجلاس کی صدارت کی۔ ایک موقع پر جب کسی نے جے یو آئی کے مولانا حیدری سے متعلق کوئی بات کی تو انہوں نے کہا: ”یہ میرے چیئرمین سینیٹ کے منتخب قائد حزب اختلاف ہیں، انہیں کوئی کچھ نہ کہے“۔ یہ اس ملک کے ایوانِ بالا کا حال ہے۔ اس سارے کھیل میں حکومت بدنام ہورہی ہے جب کہ یہ فیصلہ چودھری شجاعت حسین کی خواہش پر کیا گیا ہے جن کی اپنی پارٹی کے پانچ ارکان اسحاق ڈار کو ووٹ دے چکے ہیں، لیکن چیئرمین سینیٹ ووٹ دینے کا حق چھین کر اپنا فیصلہ سناچکے ہیں۔ اپوزیشن کے ارکان سینیٹ کی جانب سے اجلاس میں اس معاملے پر قانونی اور آئینی بحث کی گئی مگر حکومت کا پرنالہ وہیں کا وہیں رہا۔ ایسا دکھائی دینے لگا ہے کہ پارلیمنٹ کی چار دیواری میں لڑی جانے والی سیاسی جنگ اب سڑکوں پر آنے میں دیر نہیں لگے گی۔ مسلم لیگ نواز پنجاب کی طرح سندھ اور بلوچستان میں اپنی صفیں درست کررہی ہی، اسے سندھ کی قوم پرست جماعتوں کی حمایت مل رہی ہے جو صوبے میں پیپلزپارٹی کے خلاف اکٹھی ہورہی ہیں۔ جئے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید کے پوتے جلال محمود شاہ ان دنوں بہت متحرک ہیں۔ سندھ کی چار چھوٹی جماعتوں نے اپنی اپنی پارٹیوں کو سید جلال محمود شاہ کی جماعت سندھ یونائیٹڈ پارٹی میں ضم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ نیا سیاسی اتحاد پی پی پی کی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کی تیاریاں کررہا ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ مستقبل قریب میں یہ اتحاد مزید وسعت اختیار کرسکتا ہے۔ ممتاز بھٹو، قادر مگسی، ایاز پلیجو، ڈاکٹر صفدر سرکی، بشیر قریشی اور دیگر سندھی قوم پرست رہنما بھی اس میں شامل ہوجائیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ قوم پرستوں کا ایک بڑا اتحاد ہوگا جو پی پی پی مخالف سیاسی جماعتوں سے سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرکے سندھ میں پی پی پی کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ اگرچہ انتخابات میں ڈیڑھ برس سے زائد کا عرصہ باقی ہے تاہم سیاسی جماعتوں اور قوم پرست جماعتوں نے انتخابات کی نیٹ پریکٹس شروع کردی ہے۔ پیپلزپارٹی کے باغی رہنماءشاہ محمود قریشی بھی متحرک ہیں، ان کی حالیہ سیاست اس وقت سیاسی محفلوں کا موضوع بنی ہوئی ہے۔ پیپلز پارٹی سے تو ان بن چل رہی تھی جس کے اثرات اب گیلانی، قریشی خاندانوں کی مقامی سیاست پر بھی پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ دونوں کے درمیان رابطے کا رشتہ ٹوٹنے سے مد مقابل آنے کے اسباب بن رہے ہیں۔ وزیراعظم کا شہر ملتان تین دہائیوں بعد ایک بار پھر ہاشمیوں، گیلانیوں اور قریشیوں کا میدان جنگ ثابت ہو سکتا ہے۔ سیاسی لحاظ سے ایک بڑا بریک تھرو یہ سمجھا جارہا ہے کہ مسلم لیگ نواز کے جاوید ہاشمی نے شاہ محمود قریشی کی مسلم لیگ نواز میں شمولیت کی حمایت کردی ہے۔ یوں جنوبی پنجاب نئی سیاسی دھڑے بندیوں کے ملبے تلے آنے والا ہے۔ ان دھڑے بندیوں سے عام شہری کو کیا ملے گا؟ اس سوال کا جواب کسی سیاسی جماعت کے پاس نہیں۔ ٭٭٭٭ سرکاری گاڑیوں کا غلط استعمال پبلک اکاونٹس کمیٹی میں انکشاف ہوا ہے کہ وفاقی حکومت کے پول میں زیراستعمال اٹھارہ ہزار سرکاری گاڑیوں میں سے 14 ہزار کا غلط استعمال ہورہا ہے۔ یہ گاڑیاں بیوروکریٹس کے بچوں اور بیگمات کے زیراستعمال ہیں جس سے قومی خزانے کو 5ارب روپے سالانہ کا نقصان ہورہا ہے۔ کمیٹی میں جو رپورٹ پیش ہوئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ایک افسر چار سے پانچ گاڑیاں استعمال کررہا ہے۔ پی اے سی نے اس کا نوٹس لیا ہے تاہم گاڑیاں واپس لینے کے کسی حکم پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا ہے۔ کمیٹی کے اسی اجلاس میں وزارت سوشل ویلفیئر سے متعلق بھی ایک رپورٹ پیش ہوئی، اس میں ہوش ربا اور آنکھیں کھول دینے والے حقائق بیان کیے گئے ہیں کہ وزیراعظم نے اپنی ایک معاونِ خصوصی کی سفارش پر تعلیم اور صحت کے شعبے میں کام کرنے والی این آر ایس پی نامی ایک این جی او کو 26 ماڈل دیہات کے لیے 14کروڑ روپے دئیے لیکن زمین پر کہیں بھی ان دیہاتوں کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ حد تو یہ ہے کہ اس رقم کا آڈٹ بھی نہیں ہونے دیا جارہا۔ پی اے سی نے اس معاملے کا جائزہ لینے کے لیے سیکریٹری کابینہ ڈویژن نرگس سیٹھی، سیکریٹری منصوبہ بندی کمیشن سہیل احمد، آڈیٹر جنرل آف پاکستان تنویر علی آغا کو ذمہ داروں کا تعین کرکے ایک ہفتے میں رپورٹ اور آڈٹ حکام سے سرکاری گاڑیوں کی تفصیلات مہیا نہ کرنے والے 190 اداروں کی فہرست طلب کرلی۔ پی اے سی آڈٹ افسران کو ترقی دینے اور آڈیٹر جنرل کے دفتر میں خالی اسامیوں کو پُر کرنے کے لیے وزیراعظم کو بھی خط لکھے گی۔ آڈٹ نہ کرانے والی طاقت ور این جی او کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ تین وفاقی سیکریٹری اس کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن ہیں۔ سی ڈی ڈبلیو پی نے اس این جی او کو فنڈ دینے کی منظوری دی تھی۔ این جی او کے بورڈ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ جسے چاہے ہائر کرسکتا ہے۔ یہ این جی او سو فیصد حکومتی پیسے سے چلتی ہے۔ یہ معاملہ پی اے سی کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s