امریکی فوجوں کی واپسی

پاکستان کے دفتر خارجہ نے افغانستان سے امریکی فوجوں کی واپسی سے متعلق امریکی صدر براک اوباما کی تقریر پر مختصر بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں امن اور استحکام اور دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کا اشتراک جاری رہے گا۔

‘اگلے ہفتے کابل میں جب پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے کور گروپ کا اجلاس ہوگا تو اس میں ان مسائل پر تفصیل سے بات کرنے کا موقع ملے گا۔’

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے اس بیان سے لگتا ہے کہ وہ فوری طور پر امریکی صدر کی تقریر پر کوئی واضح ردعمل جاری نہیں کرنا چاہتا۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ کے اس مختصر اور مبہم رد عمل کے سامنے آنے سے تھوڑی دیر قبل بی بی سی اردو سروس کے حالاتِ حاضرہ کے پروگرام سیربین میں پاکستان کے سابق خارجہ سیکریٹری نجم الدین شیخ اور قائد اعظم یونیورسٹی میں بین الاقوامی امور کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر رفعت حسین نے ایک بحث میں حصہ لیا۔

نجم الدین شیخ نے صدر اوباما کی تقریر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس میں پاکستان کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے اور یہ تمام باتیں وہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اپنے انٹرویوز کرتے رہے ہیں۔

نجم الدین شیخ نے کہا کہ مشرقی افغانستان کے صوبوں نورستان، پکتیہ، پاکتیکہ سے امریکی فوجوں کے انخلاء سے ان علاقوں میں بدامنی بڑھے گی، سپیشل فورسز کے آپریشن بڑہیں گے، شہری ہلاکتیں بڑہیں گی، کرزائی شور مچائیں گے، ڈرون حملے بڑہیں گے اور پاکستان کی خودمختاری مزید دباؤ کا شکار رہے گی۔

رفعت حسین نے صدر اوباما کے امریکی فوج کے افغانستان سے انخلاء کے اعلان کے حوالے سے اسے ’سنگ میل‘ قرار دیا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s